تازہ ترین ۲۱ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان میں سرکاری اسلحے کی مبینہ چوری اور فروخت کا انکشاف، سابق لیویز اہلکار اور موجودہ پولیس افسر سمیت 3 گرفتار

کوئٹہ(ویب ڈیسک)بلوچستان میں سرکاری اسلحے کی بڑے پیمانے پر مبینہ چوری اور اسے غیر قانونی مسلح گروہوں کو فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے سلسلے میں سابق لیویز اہلکار اور موجودہ پولیس افسر سمیت تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں سال مئی میں کوئٹہ کے بلیلی علاقے میں محکمہ ایکسائز کی معمول کی چیکنگ کے دوران ایک گاڑی سے اسلحہ برآمد ہوا، جس کے بعد کیس کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کردیا گیا۔ نے کوئٹہ کے کلی نوحصار میں ایک گھر پر کارروائی کرتے ہوئے بڑی تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا اور دو افراد کو گرفتار کیا، جن میں روشن خان بھی شامل تھا جو ماضی میں لیویز کے اسلحہ خانے میں تعینات رہا تھا، جبکہ بعدازاں لیویز اسلحہ خانے کے انچارج عبدالحکیم کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ 18 مئی 2026 کو درج مقدمے کے مطابق ملزمان کے خلاف ایکسپلوسیو ایکٹ، بلوچستان آرمز ایکٹ اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق گرفتار افراد سے دو 9 ایم ایم پستول جبکہ ایک گھر سے چار سب مشین گنز، چھ چینی ساختہ رائفلیں، تین لائٹ مشین گنز، پانچ 3.03 رائفلیں، ایک G-3، 12 اور 22 بور کی دو رائفلیں، پانچ ہزار سے زائد گولیاں اور بڑی تعداد میں میگزین برآمد کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق 16 راکٹ گولے، دو لانچر، 18 فیوز اور 10 دستی بم بھی برآمد ہوئے، جن میں سے دو دستی بم اور 18 فیوز خطرناک ہونے کے باعث موقع پر ہی ناکارہ بنادیے گئے۔ ایک پولیس افسر کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ معلومات سامنے آئی ہیں کہ مبینہ طور پر بعض سرکاری اہلکار سرکاری گاڑیوں کے ذریعے دفاتر سے اسلحہ نکال کر کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، گلستان اور افغان سرحدی علاقوں میں فروخت کرتے تھے، جبکہ واٹس ایپ کے ذریعے اسلحے کی خرید و فروخت سے متعلق معلومات بھی سامنے آئی ہیں۔ پولیس ذرائع نے غیر قانونی مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کیے جانے کے امکان کا بھی اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان لیویز کے ایک سابق اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ 3 فروری 2026 سے وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے تحت لیویز فورس کو مکمل طور پر بلوچستان پولیس میں ضم کردیا گیا تھا اور تمام اثاثے و ذمہ داریاں پولیس کے حوالے کردی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلحے اور سرکاری سامان کے گم ہونے کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے مال خانوں، اسلحہ رجسٹروں، اثاثوں اور پولیس کو منتقلی کے ریکارڈ کا تقابلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔