مقامی ۲۹ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان میں سخت حالات کے باعث صحافت انتہائی مشکل، صحافیوں کو سکیورٹی فراہم کی جائے: کلثوم نیاز بلوچ

کوئٹہ (ویب نیوزڈ) نیشنل پارٹی کی بلوچستان اسمبلی کی رکن کلثوم نیاز بلوچ نے 28 اگست کو صحافیوں کے شہداء کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں بلوچستان کے شہید صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں نے حق اور حقیقت کی آواز عوام تک پہنچانے کے لیے انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیے اور شہید صحافیوں کی قربانیاں پوری صحافتی برادری اور عوام کے لیے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحافت مشکل اور خطرناک پیشوں میں شامل ہوگئی ہے اور صوبے کے صحافی بدامنی، دہشت گردی، دھمکیوں، دباؤ، معاشی مشکلات اور دیگر سنگین مسائل کے باوجود عوام کو باخبر رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحافی بالخصوص سخت مشکلات اور سکیورٹی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کلثوم نیاز بلوچ نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھیں اور کان ہیں، اس لیے ان کی آواز دبانے کے بجائے ان کی سکیورٹی اور آزادی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے سکیورٹی خدشات کا فوری نوٹس لے کر محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیا کی آزادی جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے اور اختلاف رائے و تنقید کو جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جانا چاہیے تاکہ صحافی آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دے سکیں اور کسی صحافی کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران دھمکی، دباؤ یا خوف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کلثوم نیاز بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے صحافیوں کے تحفظ کے لیے جامع پالیسی تشکیل دی جائے، ان کے سکیورٹی مسائل کے حل کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں اور شہید و زخمی صحافیوں کے خاندانوں کی مالی معاونت اور فلاح و بہبود کے لیے بھی عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید صحافیوں نے قلم کی حرمت اور عوام کے معلومات کے حق کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور یہ قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ ان کے مطابق حکومت، سیاسی جماعتوں اور معاشرے کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں بلوچستان کا صحافی خوف اور دباؤ کے بغیر حقیقت لکھ اور بیان کرسکے۔