کوئٹہ (روزنامہ صداقت)گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم کھوسہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق ڈھائی ڈھائی سالہ فارمولے کی کوئی خاص اہمیت نہیں، اگر اس حوالے سے کوئی سیاسی اتفاقِ رائے یا فارمولا موجود بھی ہوا تو اس کا فیصلہ وفاقی سطح پر کیا جائے گا، تاہم موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت اور عوامی خدمت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں، ریاستی اداروں اور عوام کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مسائل کا حل تشدد، اشتعال انگیزی یا متنازع بیانات میں نہیں بلکہ آئین، قانون اور جمہوری عمل کے ذریعے ممکن ہے۔انہوں نے چمن پھاٹک کے قریب ٹرین پر ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن دشمن عناصر بلوچستان کے امن اور ترقی کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، تاہم حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے عوام تجارت، آمدورفت، روزگار اور دیگر سماجی و معاشی مسائل سے دوچار ہیں، تاہم حکومت ان مشکلات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار حل قانون سازی، پارلیمانی کردار اور جمہوری عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کے بعض بیانات سیاسی اور سماجی سطح پر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں اور ذاتی لشکر بنانے یا اس نوعیت کے بیانات مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک آئینی و جمہوری ریاست ہے جہاں تمام معاملات قانون کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔
میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان مختلف قومیتوں، زبانوں اور ثقافتوں کا گلدستہ ہے اور تمام شہری برابر کے پاکستانی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ مخلوط حکومت ترقیاتی منصوبوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم، امن کے قیام اور سیاسی استحکام کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ آئندہ بجٹ میں تمام اضلاع کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔.
