کوئٹہ (ویب نیوز) جمعیت علماء اسلام نظریاتی قلات اور جمہوری وطن پارٹی قلات نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ بلوچستان حکومت بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرکے عوام بالخصوص نوجوانوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے، سرکاری محکموں میں نوجوانوں سے کاغذات جمع، نامزدگیاں اور انٹرویوز لینے کے باوجود تقرری کے احکامات جاری نہیں کیے جاتے اور امیدوار سالہا سال سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ واپڈا میں گزشتہ دس سال سے بھرتیاں نہیں ہوئیں جبکہ محکمہ پبلک ہیلتھ میں متعدد افراد پندرہ پندرہ سال سے پرائیویٹ بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور مستقل ہونے کے منتظر ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ ایک طرف غریب ملازمین اور نوجوان روزگار کے لیے سالہا سال انتظار کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب بعض سرکاری افسران کی ذاتی جائیدادوں اور تعمیرات پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے سوالات سامنے آتے ہیں، اس لیے سرکاری عہدوں پر موجود افراد کو اپنی آمدن اور اخراجات کے ذرائع کی وضاحت کرنی چاہیے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کو مزید وعدوں اور اعلانات کے ذریعے انتظار میں رکھنے کے بجائے تمام محکموں میں زیر التوا تقرریوں کے احکامات فوری جاری کیے جائیں اور محکمہ پبلک ہیلتھ میں طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کے مستقبل کا منصفانہ فیصلہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوان کسی خیرات کے طلبگار نہیں بلکہ اپنے جائز روزگار اور بہتر مستقبل کا حق مانگ رہے ہیں، اس لیے حکومت کے دعووں کی حقیقت اب اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوگی۔
