کوئٹہ (ویب نیوز): بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد اور بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیے گئے، جبکہ خضدار میں عاصمہ جتک کے خاندان سے متعلق واقعے پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور اپوزیشن و صوبائی وزرا نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات، زیارت، ہنہ اوڑک اور سورنج کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے پیش کی گئی کشمیر سے متعلق قرارداد میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کی مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی بل 2026 پیش کیا جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اجلاس میں خضدار واقعے پر ارکان اسمبلی نے حکومت سے عاصمہ جتک کے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ رکن اسمبلی میر زابد علی ریکی نے کہا کہ عاصمہ جتک کے اغوا اور خاندان کے افراد کے قتل کے معاملے پر سنجیدہ کارروائی کی ضرورت ہے، جبکہ صوبائی وزیر علی مدد جتک نے بھی انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی بلوچستان، ڈی آئی جی خضدار اور ایس پی خضدار کو طلب کرنے کی ہدایت کر دی۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، بعد ازاں احتجاجاً واک آؤٹ کیا گیا۔ اجلاس 28 اگست تک ملتوی کر دیا گیا۔
