مقامی ۳ ستمبر ۲۰۲۶

بلوچستان اسمبلی میں اہم قراردادیں منظور، غیر قانونی ٹرالنگ، منشیات اور فضائی رابطوں پر تشویش

کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں غیر قانونی ٹرالنگ، اندرونِ ملک فضائی رابطوں کی بحالی، منشیات کے خاتمے، کینسر اسپتال کے قیام، سندھ میں پشتون تاجروں کے خلاف مبینہ کارروائیوں اور دہشت گردی سمیت مختلف اہم امور پر قراردادیں منظور کرلی گئیں۔ اجلاس میں مولانا ہدایت الرحمن نے الزام عائد کیا کہ سندھ سے آنے والے ٹرالر بلوچستان کی سمندری حدود سے سالانہ تقریباً 200 ارب روپے کی مچھلی لے جاتے ہیں، جبکہ پارلیمانی سیکریٹری ماہی گیری برکت رند نے بتایا کہ 20 سے زائد ٹرالر پکڑے جاچکے ہیں اور کارروائیاں جاری ہیں۔ اسد اللہ بلوچ کی قرارداد پر پنجگور، خضدار، دالبندین اور ژوب سے اندرونِ ملک پروازیں بحال کرنے کی منظوری دی گئی۔ سندھ میں پشتون تاجروں کے خلاف مبینہ کارروائیوں کی تحقیقات کی قرارداد بھی منظور ہوئی۔ اجلاس میں زیارت روڈ پر تعمیراتی کیمپ پر دہشت گرد حملے کی مذمت کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی کے مبینہ نامناسب الفاظ کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور ہوئی اور متنازع الفاظ اسمبلی کارروائی سے حذف کردیئے گئے۔ اجلاس میں منشیات کے عادی نوجوانوں کے لیے بحالی مراکز اور بلوچستان میں کینسر کے علاج کے لیے معیاری اسپتال کے قیام کی قراردادیں بھی منظور ہوئیں۔ وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ 250 بستروں کا کینسر اسپتال تیار ہے، مشینری کی خریداری کے لیے تقریباً 8 ارب روپے درکار ہیں اور 6 سے 8 ماہ میں اسے فعال کردیا جائے گا۔ وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے انسداد دہشت گردی بلوچستان ترمیمی مسودہ قانون پیش کیا، جسے اپوزیشن کے قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کے مطالبے کے باوجود اسمبلی نے منظور کرلیا۔ اجلاس میں مختلف معاملات پر ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، بعدازاں اجلاس 5 ستمبر تک ملتوی کردیا گیا۔