کوئٹہ( روزنامہ صداقت انٹرنیشنل کوئٹہ)اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے سانحہ زیارت کے خلاف کوئٹہ میں جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مانگی ڈیم میں پولیس اہلکاروں کو مناسب اسلحہ اور وسائل کے بغیر بھیجنے والے ضلعی انتظامیہ سے لے کر اعلیٰ حکام تک تمام ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی حکومت فوری طور پر استعفیٰ دے کیونکہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی لاشوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ناقابلِ قبول ہے اور اس کے ذمہ داروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں زیارت دھرنے اور شہداء کے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں اور احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کے لیے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل آئین، سیاسی مذاکرات اور عوام کے حقوق کے احترام میں ہے، جبکہ ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر فرائض انجام دینے چاہییں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی مضبوطی تمام قومیتوں کے آئینی حقوق، وسائل میں مساوی حصہ اور انصاف کی فراہمی سے مشروط ہے، جبکہ پشتون دہشت گرد نہیں بلکہ اپنے وطن کے محافظ ہیں اور وہ ظلم و ناانصافی کے خلاف پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔
