تازہ ترین ۲۴ جولائی ۲۰۲۶

برشور میں مسلح جتھوں کی موجودگی پر شدید تشویش، شفاف تحقیقات کا مطالبہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (ویب نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ضلع برشور کی یونین کونسل شبک نارین کے علاقوں کلی شاسہ محمدزئی، چرمیان اور شاسہ اسماعیل زئی کے پہاڑی سلسلوں میں گزشتہ کئی روز سے مسلح جتھوں کی موجودگی پر شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال صوبے میں ریاستی عملداری، قانون کی حکمرانی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اگر یہ مسلح افراد ریاستی اداروں کی معلومات میں نہیں تو یہ سیکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے، اور اگر معلومات میں ہیں تو عوام کو ان کی حیثیت، مقصد اور سرپرستی سے آگاہ کیا جائے۔پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ برشور کا واقعہ کسی ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے بلوچستان، خصوصاً جنوبی پشتونخوا میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال کا تسلسل ہے۔ بیان میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت، زیارت، منگوچر، مستونگ، ہنہ اوڑک، قلعہ عبداللہ، ہرنائی، شاہرگ، پشین اور کوئٹہ۔کراچی قومی شاہراہ سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، شاہراہوں کی بندش اور شہریوں کی شناخت کی بنیاد پر تلاشی جیسے واقعات کو عوام میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کی علامت قرار دیا گیا۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ کچلاغ، ژوب شاہراہ پر مسلح افراد کی جانب سے شہریوں کے شناختی کارڈ چیک کرنا، اپنی مرضی کی ناکہ بندیاں قائم کرنا اور ضلع زیارت کے بعض علاقوں میں “سروے” کے نام پر مقامی لوگوں کی زمینوں کی پیمائش کرنا انتہائی خطرناک اور غیرقانونی اقدامات ہیں۔ پارٹی کے مطابق اگر مسلح گروہوں کو شاہراہوں اور عوامی علاقوں میں اس نوعیت کی سرگرمیوں کی آزادی حاصل ہو اور ریاست خاموش رہے تو یہ آئینی نظام اور قانون کی حکمرانی کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ برشور، کچلاغ، زیارت، پشین اور دیگر متاثرہ علاقوں میں مسلح جتھوں کی موجودگی کی عدالتی نگرانی میں شفاف تحقیقات کرائی جائیں، سہولت کاروں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، جبکہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ سمیت حالیہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کر کے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاستی عملداری کو یقینی بنایا جائے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو دیگر سیاسی جماعتوں اور عوام کے ساتھ مل کر ہر جمہوری اور آئینی فورم پر بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔