تازہ ترین ۲۸ جولائی ۲۰۲۶

بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپوں سے سیکیورٹی صورتحال کشیدہ

کابل(ویب نیوز) افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات ہیں، جہاں مختلف اضلاع میں جھڑپوں کے بعد سیکیورٹی صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔ یفتل اور زیباک اضلاع میں حالیہ واقعات کے بعد طالبان کے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے کابل سے بدخشان جانے والے طالبان کے ایک فوجی قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سات طالبان اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ تنظیم کے مطابق جنگجوؤں نے طالبان کے فوجی قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے بعد کارروائی کی۔ فریڈم فرنٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ضلع زیباک میں اس کے جنگجوؤں نے طالبان کے دو فوجی ڈرون مار گرائے جبکہ ایک اور واقعے میں طالبان کے ہیلی کاپٹروں کو لینڈنگ کیے بغیر واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ ادھر افغان صحافی بلال سروری نے ان کارروائیوں کو فریڈم فرنٹ کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت اور منظم حکمت عملی کا مظہر قرار دیا، جبکہ سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے کہا کہ طالبان حکومت کے خلاف سیاسی اور عسکری مزاحمت مزید منظم ہو سکتی ہے۔ ان دعوؤں پر طالبان حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔