کوئٹہ (ویب نیوز) جمعیت علماء اسلام نظریاتی پاکستان کے رہنماؤں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی و مذاکراتی عمل میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے اسے خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سرحدیں کھولی جائیں اور تمام تنازعات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔پریس کانفرنس میں مختلف علما اور سیاسی کارکنان کی بڑی تعداد نے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ رہنماؤں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے درمیان تعلقات کو سیاسی نہیں بلکہ باہمی تعاون کی بنیاد پر مضبوط کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل مسلم دنیا کے حقیقی خیر خواہ نہیں ہو سکتے جبکہ غزہ اور فلسطین کی مکمل آزادی کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔
