پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط کی دلچسپ تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر عشائیے کے دوران اچانک فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو آگاہ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر فوری دستخط کرنا چاہتے ہیں۔ اس غیر متوقع فیصلے سے نہ صرف میزبان صدر میکرون بلکہ امریکی حکام بھی حیران رہ گئے، کیونکہ اس سے قبل معاہدے پر دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے کا منصوبہ تھا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے بعد فرانسیسی حکام نے ہنگامی بنیادوں پر دستخطی تقریب کے انتظامات مکمل کیے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور فرانسیسی حکام معاہدے کے مسودے کا پرنٹ حاصل کرنے کے لیے پرنٹر تلاش کرتے رہے۔ دستخط کی تقریب کے دوران ٹرمپ نے معاہدے کو آسانی سے ممکن نہ ہونے والا اہم سفارتی اقدام قرار دیا اور دستخط شدہ دستاویز شرکاء کو دکھائی، جبکہ صدر میکرون نے اس موقع پر “براوو” کہہ کر خیر مقدم کیا۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی اور خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود 14 نکاتی ایران امریکا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی تیل ذخائر میں کمی اور امریکا میں آئندہ سیاسی چیلنجز بھی اس معاہدے کی جلد تکمیل کی اہم وجوہات میں شامل رہے۔
