مقامی ۳۱ اگست ۲۰۲۶

اوتھل میں سینئر وکیل کے گھر پولیس چھاپے کے خلاف بار ایسوسی ایشن کی احتجاجی ریلی

اوتھل (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل) لسبیلہ ڈویژن کے ضلعی ہیڈکوارٹر اوتھل میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لسبیلہ کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق ایگزیکٹو ممبر عاصم کاظم کے گھر پر مبینہ پولیس چھاپے اور اہلخانہ کو ہراساں کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور ریلی نکالی گئی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لسبیلہ کے صدر ایڈووکیٹ ارشد محمود نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پولیس گردی اور قانون کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2026 کو عدالتی احکامات کے باوجود انتظامیہ نے پولیس کے ہمراہ بی اے ایف پبلک اسکول کے تالے توڑ کر اپنے تالے لگوائے، جس کے خلاف ایڈووکیٹ عاصم کاظم نے تھانے میں درخواست جمع کرانے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے مبینہ طور پر درخواست وصول کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ 7 اپریل 2026 کو بھی عاصم کاظم کی اہلیہ، جو اسکول کی پرنسپل ہیں، اور دیگر اساتذہ کو مبینہ طور پر پانچ گھنٹے تک اسکول میں روکے رکھا گیا، جس کے خلاف مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے 15 مئی کو بی اے ایف پبلک اسکول سے متعلق فیصلہ پرنسپل مس عابدہ اسماعیل کے حق میں دیا، تاہم اس کے باوجود انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے وکلا اور ان کے اہلخانہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ارشد محمود نے کہا کہ وکلا برادری کسی بھی وکیل کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کرے گی اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وکلا معاشرے کے ہر مظلوم طبقے کے ساتھ کھڑے ہیں اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر احتجاج کے باوجود معاملے کا نوٹس نہ لیا گیا تو بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں آئندہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ احتجاجی ریلی میں سینئر ایڈووکیٹ عبدالواحد رونجھو، ایڈووکیٹ عاصم کاظم، ایڈووکیٹ عامر جلیل، ایڈووکیٹ منور لاسی، ایڈووکیٹ سلطان قادر، ایڈووکیٹ شکیل رونجھو، ایڈووکیٹ علی جمالی، ایڈووکیٹ حبیبہ بلوچ سمیت دیگر وکلا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔