تہران(ویب نیوز) ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران نے امریکا سے جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی اور جنگ یا امن کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا نے ایران پر حملے کے بعد یہ سمجھا تھا کہ ایران چند دنوں میں ہتھیار ڈال دے گا، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود واشنگٹن خود مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھنے پر دوبارہ مذاکرات کی بات کرتا ہے، جبکہ اسرائیل خطے کے ممالک کے جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا استعمال ہر ملک کا حق ہے اور ایران نے صرف اپنے قانونی حق سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اسماعیل بقائی نے بحیرہ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس کا جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، ایران کے خلاف فوجی جارحیت کا بنیادی ذمہ دار امریکا ہے اور خطے کے بعض ممالک کی شمولیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم یہ بات چیت صرف جہاز رانی کے انتظام اور علاقائی معاملات تک محدود ہے اور اس کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
