تازہ ترین ۲۳ مئی ۲۰۲۶

امریکا۔ایران مفاہمت گھنٹوں کے فاصلے پر، آبنائے ہرمز جلد کھلنے کا امکان

*واشنگٹن/تہران/اسلام آباد (فارن ڈیسک/مانٹرنگ ڈیسک) امریکی ذرائع ابلاغ خصوصاً فاکس نیوز اور مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ ’’گھنٹوں کے فاصلے‘‘ پر ہوسکتا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور معمول کے بحری راستوں کی بحفاظت فعالیت سے متعلق بھی پیش رفت متوقع ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، پاکستان، اردن اور اسرائیلی قیادت سمیت مشرق وسطیٰ کے مختلف رہنماؤں کے ساتھ رابطے کیے ہیں جن میں خطے کی کشیدہ صورتحال، ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت، توانائی کے عالمی راستوں کے استحکام اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ سفارتی رابطوں کے ذریعے ایک ایسے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی کوشش کررہی ہے جو خطے میں کشیدگی میں کمی اور عالمی تجارتی و تیل بردار راستوں کی بحالی کا سبب بن سکے۔

ادھر پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران سے پاکستان واپسی کے بعد ان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ایران کے ساتھ مذاکراتی پیش رفت پر مبارک باد دی۔ ایرانی سفیر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی اور سفارتی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی خلوص نیت کے ساتھ مثبت سفارتی کردار ادا کیا۔رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور فوج کی مخلصانہ کوششیں خطے میں پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔ ان کے بقول ایرانی مسلح افواج کی ثابت قدمی اور ایرانی قوم کی مزاحمت نے مذاکراتی عمل کو تقویت دی جبکہ پاکستان کی ثالثی اور سفارتی رابطے اس پیش رفت میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔بین الاقوامی سفارتی حلقوں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمت حتمی شکل اختیار کرلیتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف مشرق وسطیٰ میں تناؤ میں کمی آسکتی ہے بلکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سرگرمیوں کی بحالی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام اور خطے کے سیاسی ماحول میں نمایاں تبدیلی کے امکانات بھی روشن ہوسکتے ہیں۔