تازہ ترین ۲۰ اگست ۲۰۲۶

اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان یوتھ فارن انویسٹمنٹ کونسل قائم کی جائے۔اسد شمیم

کوئٹہ(ویب نیوز) پاکستانی نژاد برطانوی تاجر، فرنیچر اِن فیشن کے بانی و چیف ایگزیکٹو اور او ایم انٹرنیشنل کے مشاورتی بورڈ کے چیئرمین اسد شمیم نے تجویز دی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور نوجوانوں کو عالمی مواقع سے جوڑنے کے لیے ’’پاکستان یوتھ فارن انویسٹمنٹ کونسل‘‘ قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ’’برین ڈرین‘‘ کے بجائے ’’برین گین‘‘ کی جانب بڑھنا چاہیے، کیونکہ ملک میں صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی کمی نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں اور عالمی سطح پر موجود مواقع کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کیا جائے۔ اسد شمیم کے مطابق کونسل کا مقصد پاکستانی نوجوان کاروباری افراد کو عالمی سرمایہ، ٹیکنالوجی، مہارتوں اور بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس دو بڑی طاقتیں ہیں، نوجوان آبادی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی، جنہوں نے برطانیہ، متحدہ عرب امارات، مشرق وسطی، یورپ، شمالی امریکا اور آسٹریلیا میں کامیاب کاروبار، پیشہ ورانہ تجربات اور عالمی روابط قائم کیے ہیں۔ ان کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کا کردار صرف ترسیلات زر بھیجنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ وہ سرمایہ کاری، رہنمائی، ٹیکنالوجی، شراکت داری اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں پاکستان کی مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یوتھ فارن انویسٹمنٹ کونسل ایک قابلِ اعتماد اور شفاف پل کا کردار ادا کر سکتی ہے، جو پاکستانی نوجوان اور باصلاحیت کاروباری افراد کو بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں، فیملی دفاتر، وینچر کیپیٹل، کثیر القومی کمپنیوں اور عالمی اسٹریٹجک شراکت داروں سے منسلک کرے۔ اسد شمیم نے بتایا کہ برطانیہ میں انہوں نے 1929 کے ان ضوابط میں تبدیلی کی جدوجہد میں بھی حصہ لیا تھا، جن کے تحت ذیابیطس کے شکار پیشہ ور باکسرز کے لیے پروفیشنل باکسنگ لائسنس حاصل کرنے پر پابندیاں عائد تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی عزم کے تحت وہ پاکستان کی آئندہ نسل کے لیے مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور اپنی عالمی کاروباری تجربے، روابط اور نیٹ ورک کو پاکستان کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھولنے کے لیے استعمال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو صلاحیتوں کے انخلا سے صلاحیتوں کے حصول، ترسیلات زر سے سرمایہ کاری اور پاکستانی ٹیلنٹ سے عالمی کاروباری اداروں کی جانب بڑھنا ہوگا اور نوجوانوں و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے درمیان قابلِ اعتماد اور شفاف رابطہ قائم کرنا ہوگا۔