تازہ ترین ۱۸ اگست ۲۰۲۶

اسماء امان اللہ نے انصاف کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مدد کی اپیل کردی

کوئٹہ (ویب نیوز) قمبرانی روڈ کی رہائشی اسماء امان اللہ نے اپنی بہن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ 13 اگست کی شب ان کے کزنز گھر میں داخل ہوئے اور انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسماء کے مطابق واقعے کی بنیادی وجہ شادی کی پیشکش سے ان کا انکار تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ خدا بخش نے شادی کی پیشکش مسترد کرنے پر انہیں شدید تشدد کرکے زخمی کیا اور مبینہ طور پر جبری نکاح کی کوشش بھی کی، تاہم نکاح خواں نے نکاح پڑھانے سے انکار کر دیا۔ اسماء امان اللہ نے الزام عائد کیا کہ اس کے بعد انہیں باندھنے، اغوا کرنے اور جنسی زیادتی کی کوشش بھی کی گئی، تاہم جب انہیں زبردستی گاڑی میں لے جایا جا رہا تھا تو ایک چیک پوسٹ پر ایف سی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے تعلیمی اسناد کے علاوہ تقریباً 65 لاکھ روپے مالیت کا سامان بھی لے جایا گیا۔ اسماء نے دعویٰ کیا کہ واقعے میں خدا بخش، سراج، رفیق اور بعض دیگر کزنز ملوث ہیں۔ ان کے مطابق شدید تشدد کے باعث وہ اس قدر زخمی ہیں کہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ ملزمان اب بھی انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس کے باعث وہ ایک محفوظ مقام پر رہنے پر مجبور ہیں۔ اسماء امان اللہ نے آبدیدہ ہو کر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد قصور یہ تھا کہ انہوں نے شادی کی پیشکش سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔