کوئٹہ (ویب نیوز) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ نے صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے، مختلف اضلاع میں آٹے کی قلت اور عوام کو درپیش مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فارم 47 کی حکومت کو معاشی اور غذائی بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ پارٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی، غذائی عدم تحفظ اور زرعی شعبے کے بحران کے اثرات مزید سنگین ہوسکتے ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں آٹے اور گندم کے بحران کے خاتمے کے لیے فوری عملی اقدامات کریں، عوام کو سستا آٹا اور کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بیان کے مطابق بلوچستان کے کسان پہلے ہی مہنگی کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی، پانی اور دیگر زرعی ضروریات کے بڑھتے اخراجات کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں جبکہ کھاد کی پابندیوں کے باعث انہیں بلیک مارکیٹ سے مہنگی کھاد خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، ایسے میں مقامی گندم کی مناسب اور منافع بخش قیمت نہ ملنے سے زرعی معیشت اور آئندہ گندم کی پیداوار متاثر ہوگی۔ پارٹی نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کے باعث اہم شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بندش سے گندم، آٹے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہورہی ہے جبکہ اضافی ٹرانسپورٹ اخراجات اور سپلائی میں رکاوٹوں کا بوجھ غریب صارفین پر منتقل ہورہا ہے۔ بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے گندم درآمد کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے مقامی کسانوں کے معاشی مفادات کے خلاف قرار دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ کوئٹہ سمیت تمام اضلاع میں آٹے کی دستیابی یقینی بنائی جائے، غیرضروری قیمت اضافے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور کسانوں و زمینداروں کو بجلی، پانی، کھاد، بیج، زرعی ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرکے کھاد پر عائد پابندیوں سمیت تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔
