تازہ ترین ۲۹ مئی ۲۰۲۶

آبنائے ہرمز کے انتظام کا فیصلہ ایران اور عمان کریں گے، ایران کا دوٹوک مؤقف

کوئٹہ (صداقت نیوز)ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق فیصلہ ایران اور عمان کریں گے، جبکہ اس وقت ایران کی بنیادی توجہ جاری جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا اور خطے کی حساس صورتحال میں قومی مفادات اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے امریکی ضمانتوں اور وعدوں کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران صرف عملی اقدامات کو اصل معیار سمجھتا ہے، مخالف فریق کی جانب سے پیش رفت سے قبل تہران کوئی اقدام نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی قومی پوزیشن ہمیشہ طاقت، مزاحمت اور عملی حقیقتوں کی بنیاد پر قائم رکھی ہے، جبکہ ایسے وقت میں یہ بیان بھی سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی فوری بحالی اور ایران کی جانب سے کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی شرط کا اعادہ کیا ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی اور سیاسی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔