اسلام آباد (ویب نیوز)صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے اور گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران لاکھوں پاکستانیوں، جن میں بچے، سیاسی رہنما، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، امدادی کارکن اور سرکاری ملازمین شامل ہیں، نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر نے دہشت گردی کے متاثرین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ دہشت گردی کے تمام متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور زندہ بچ جانے والے متاثرین، ان کے اہلِ خانہ اور ان معاشروں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جن کی زندگیاں تشدد کے باعث ہمیشہ کے لیے بدل گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شہری اور سکیورٹی اہلکار قربانیاں دے رہے ہیں، جن کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔ صدر نے واضح کیا کہ کوئی مذہب، عقیدہ، نظریہ، شکایت، مقصد یا سیاسی مفاد بے گناہ انسانوں کے قتل کا جواز نہیں بن سکتا اور دہشت گردی کی ہر شکل کی بلاامتیاز مذمت ہونی چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے اور کسی دہشت گرد گروہ کو پناہ، مالی معاونت، اسلحہ، لاجسٹک سہولیات یا کسی بھی قسم کی بیرونی حمایت فراہم نہ کی جائے۔ صدر زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے متاثرین اور زندہ بچ جانے والے افراد برسوں تک جسمانی زخموں، ذہنی صدمے، روزگار سے محرومی، تعلیم میں رکاوٹوں اور سماجی تنہائی کا سامنا کرتے ہیں، اس لیے ان کے مسائل صرف ہنگامی امداد یا ایک مرتبہ کی مالی معاونت سے حل نہیں ہوسکتے؛ انہیں طبی و نفسیاتی نگہداشت، تعلیم، بحالی، قانونی معاونت اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متاثرین کے لیے منظم معاونت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے معلومات، امداد اور بحالی کی خدمات کو متاثرین اور ان کے خاندانوں تک مزید آسانی سے پہنچایا جانا چاہیے۔ صدر نے زور دیا کہ دہشت گردی کے متاثرین کی مدد خیرات نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار اور قومی ذمہ داری کا معاملہ ہے، اس لیے حکومت، صحت و تعلیم کے ادارے، سول سوسائٹی، نجی شعبہ، میڈیا اور ترقیاتی شراکت داروں کو مل کر متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے مستقل معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہاپسندی، عدم برداشت اور نفرت کا مقابلہ بھی شامل ہونا چاہیے، کیونکہ تعصب اور عدم برداشت تشدد اور دہشت گردی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ صرف سکیورٹی اقدامات دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے کافی نہیں، بلکہ ایسا معاشرہ تشکیل دینا ضروری ہے جہاں نوجوانوں کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھا جائے اور نسلی، مذہبی، پیشہ ورانہ یا سیاسی اختلافات کو کبھی بھی تشدد کے جواز کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے پاکستان کے مختلف صوبوں، برادریوں، مذاہب اور اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا، لیکن وہ قوم کے عزم کو نہیں توڑ سکے، کیونکہ عوام کی قربانیاں کسی ایک صوبے، قوم، مذہب یا ادارے کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی مشترکہ قربانیاں ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ ہمیں اپنے بچھڑے ہوئے عزیزوں کو یاد کرنا، دہشت گردی کے اثرات سے اب بھی متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑا ہونا اور دہشت گردی کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ ایک پُرامن، روادار، متنوع، ہمدرد اور مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے مشترکہ عزم کی تجدید کرنی چاہیے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دہشت گردی کے تمام متاثرین کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر و حوصلہ عطا کرے اور پاکستان کو دائمی امن، استحکام، خوشحالی اور قومی یکجہتی نصیب فرمائے۔
