کوئٹہ(ویب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری سوشل میڈیا سعد دہوار نے کہا ہے کہ 20 ستمبر کو تربت میں آل پارٹیز کے زیر اہتمام احتجاجی جلسہ اور ریلی کیچ کے عوام کے بنیادی مسائل اور روزگار سے براہِ راست جڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کی طویل بندش، ٹوکن مافیا کی اجارہ داری، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سعد دہوار نے مکران یونیورسٹی پنجگور کے نئے صوبوں سے متعلق پالیسی بیان پر اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پینل میں نیشنل پارٹی کے رہنما پھلین بلوچ سمیت مقررین نے نئے صوبوں کی مخالفت کی، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اختتام پر انہیں حامی ظاہر کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے وضاحت، اصل مؤقف شائع کرنے اور معذرت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے 20 ستمبر کی ریلی کو عوامی مسائل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے نیشنل پارٹی کی قیادت کے خلاف تنقید کی مذمت کی۔
