کوئٹہ (ویب نیوز) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، نائب امیر مولانا خورشید احمد اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومت کی عوام دشمن اقتصادی پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات سے دوچار عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ایک اور بھاری بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ایک جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے اور دوسری جانب عوام کو ریلیف دینے کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عام شہری پہلے ہی مہنگائی کی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئے اضافے نے ان کی معاشی قوت مزید کمزور کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے، ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا تک ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے، جس کا براہ راست بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹا، گھی، سبزیاں اور دیگر اشیائے خورونوش عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ محدود آمدن رکھنے والے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم، علاج معالجے اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے، مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کی معاشی مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور عوام کی قوت خرید بحال کرنے، ضروری اشیا کی قیمتوں میں استحکام اور بے روزگاری میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
