کوئٹہ (ویب نیوز) جامعہ غوثیہ رضویہ انوار باہو، وحدت کالونی کوئٹہ میں تحفظِ ختمِ نبوت کے سلسلے میں ایک پروقار کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اتحادِ اہلِ سنت بلوچستان مرکزی کونسل کے ارکان، جامعہ غوثیہ رضویہ کے مہتممِ اعلیٰ و تنظیم المدارس بلوچستان کے سربراہ علامہ مفتی محمد جان قاسمی، جماعت اہلِ سنت بلوچستان کے صوبائی سربراہ سید حبیب اللہ شاہ چشتی، مولانا در محمد قادری، علامہ قاری نور محمد حسینی، پیر سید علاءالدین چشتی، پیر سید عرفان شاہ مشہدی، علامہ در محمد حسینی، علامہ عبدالخالق حسینی، علامہ محمد شعیب قادری، حاجی محمد ظریف رضوی، مولانا ذوالفقار علی طارقی، قادری محمد ذیشان خان قادری، فہیم احمد رضوی، علامہ ذیشان طارقی، ڈاکٹر عطاء الرسول قادری، علامہ شمس الضحیٰ قادری، پاکستان سنی تحریک لاڑکانہ ڈویژن کے سربراہ و اتحادِ اہلِ سنت سندھ کے رکن انجینئر عبدالغفار مینگل قادری، علامہ محمد نعمان عطاری، علامہ محمد عزیر صدیقی، محمد گلزار فریدی، اشعر رسول چشتی، سہیل اشرف نقشبندی سمیت بڑی تعداد میں علماء، مشائخ اور معززین نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ 1953ء سے 7 ستمبر 1974ء تک تحفظِ ناموسِ رسالت کی عظیم جدوجہد بے شمار قربانیوں سے عبارت ہے اور اس تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس تحریک میں ہزاروں افراد نے ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں۔ مقررین نے کہا کہ یہ کوئی نئی جدوجہد نہیں بلکہ اس کے پسِ پشت ایک طویل تاریخ، بے شمار قربانیاں اور اہلِ سنت کے اکابرین کی عظیم کاوشیں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کوئی شخص دفعہ 295-C کے تحفظ کی بات کرتا ہے تو اسے ہراساں کیا جاتا ہے اور اس کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ قانون کسی فرد یا جماعت کا ذاتی قانون نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات سے متعلق معاملہ ہے، اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عملی جدوجہد کی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحفظِ ناموسِ رسالت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پانچ وقت کی نماز فرض ہے، اسی طرح ناموسِ رسالت اور عقیدۂ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ اور ہر لمحہ اس کی پاسبانی بھی ہمارے ایمان اور دینی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
