کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر مقصودالرحمان بازی اور جنرل سیکرٹری شمس خلجی نے کہا ہے کہ بی ڈی اے کے ملازمین گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں، جس کے باعث ملازمین اور ان کے خاندان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور متعدد گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ڈی اے ملازمین روزانہ اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور فرض شناسی سے انجام دے رہے ہیں، تاہم دو ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے ان کے گھریلو حالات انتہائی خراب کردیئے ہیں، گھروں میں راشن ختم ہوچکا ہے، بچوں کی فیس ادا نہیں کی جاسکتی جبکہ مکان کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل بھی جمع ہوتے جارہے ہیں، جس کے باعث ملازمین قرض لے کر گھریلو ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔ مقصودالرحمان بازی اور شمس خلجی نے کہا کہ تنخواہ کسی ملازم پر احسان یا خیرات نہیں بلکہ اس کی محنت کا قانونی معاوضہ ہے اور ایک غریب ملازم کا گھر ماہانہ تنخواہ پر چلتا ہے، لہٰذا دو ماہ تک تنخواہ بند رہنے سے اس کے خاندان کو درپیش مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ بی ڈی اے ملازمین کی صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے دو ماہ کی بقایا تنخواہیں جلد از جلد جاری کرنے کے احکامات دیے جائیں اور تنخواہوں کی سمری کو مزید تاخیر کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔ بی ڈی اے ملازمین کے نمائندوں نے کہا کہ وہ حکومت سے اضافی مراعات یا سہولیات کا مطالبہ نہیں کررہے بلکہ صرف اپنی محنت کا معاوضہ چاہتے ہیں اور خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری توجہ نہ دی تو ملازمین اور ان کے خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔
