مقامی ۷ ستمبر ۲۰۲۶

7 ستمبر یومِ فتح ختمِ نبوت پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے عظیم تاریخی دن ہے: جمعیت نظریاتی

کوئٹہ (ویب نیوز) جمعیت علمائے اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا محمود الحسن قاسمی، خیبر پختونخوا کے صوبائی امیر مولانا قاضی گل الرحمن نکیال، بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا قاری مہر اللہ، صوبائی امیر مولانا عزیز احمد شاہ امروٹی، پنجاب کے صوبائی امیر مولانا ثناء اللہ فاروقی، صوبائی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین، مرکزی نائب امیر مولانا عبدالوہاب ڈھیر، مرکزی نائب امیر مولانا عبدالروف، سرپرست اعلیٰ مولانا ڈاکٹر شمس الہدیٰ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی اور مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ نے یومِ فتح ختمِ نبوت کے موقع پر اپنے بیانات میں کہا ہے کہ 7 ستمبر پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے ایک عظیم تاریخی اور روشن دن ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ 7 ستمبر 1974 کو پاکستان کی منتخب آئین ساز اسمبلی نے طویل علمی، شرعی اور آئینی بحث کے بعد عقیدہ ختمِ نبوت کو آئینی تحفظ فراہم کرتے ہوئے قادیانی اور مرزائی گروہوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، جسے ایک اہم آئینی اور تاریخی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 ستمبر صرف ایک سیاسی یا قانونی کامیابی کی یاد نہیں بلکہ ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے امتِ مسلمہ کے غیر متزلزل عزم، علما کی تاریخی جدوجہد اور شہدا کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و سلامتی کا اہم محور ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ جب بھی عقیدہ ختمِ نبوت پر فکری یا سیاسی حملہ ہوا، امتِ مسلمہ نے اپنے تمام اختلافات اور دنیاوی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اس عقیدے کے دفاع کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ ختمِ نبوت صرف ایک عقیدے کا تحفظ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، وجود اور سلامتی کا تحفظ بھی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک مسلمانوں نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ جنگِ یمامہ میں صحابہ کرامؓ کی عظیم قربانیوں نے واضح کیا کہ اس عقیدے کے دفاع میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ حق گو علما نے تحفظ ختمِ نبوت کے لیے قید، جلاوطنی اور مختلف مشکلات برداشت کیں لیکن اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں بھی عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمی و فکری بیداری پیدا کرنا ضروری ہے، نئی نسل کو قرآن و سنت کی روشنی میں اس عقیدے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے اور فکری و نظریاتی سطح پر گمراہ کن تصورات کا مدلل جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو اپنے تمام فروعی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایسے فتنوں کی روک تھام کے لیے متحد ہونا چاہیے اور اتحاد، علم، شعور اور پرامن جدوجہد کے ذریعے نئی نسل میں عقیدہ ختمِ نبوت کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جاسکتی ہے۔