کوئٹہ (ویب نیوز) افغان قومی تحریک کے سربراہ احمد خان نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب کو ’’فتنۃ الہند‘‘ کے مقابلے میں ہمسایہ صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے۔ احمد خان نے کہا کہ پنجاب کو ہمسایہ صوبوں سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ محکوم صوبوں کو پنجابی استعمار کی حکمرانی سے خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب اپنی اندرونی و بیرونی کمزور پالیسیوں کے باعث ملک کو درپیش خطرات اور ناکامیوں کا ملبہ ہمسایہ صوبوں پر ڈالنے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب پشتون، بلوچ اور سندھی اقوام کو اپنے سے الگ سمجھنا چاہتا ہے تو اسے اس حوالے سے جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیونکہ ان اقوام میں اس امکان پر پہلے ہی سنجیدگی سے غور موجود ہے۔ احمد خان نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد بعض قوتوں نے وفاقی ریاست کو پنجاب کی بالادستی کی علامت بنانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں دیگر صوبے سیاسی، معاشی اور انتظامی محرومیوں کا شکار ہوئے، جبکہ مختلف سرکاری اداروں اور فیصلہ سازی کے مراکز میں اختیارات کے غیر متوازن ارتکاز نے وفاقی اکائیوں کے درمیان عدم اعتماد پیدا کیا۔ ان کے مطابق کمزور پالیسیوں اور دوہرے معیار کی سیاست کے باعث ملکی ادارے بحرانوں کا شکار ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ افغان قومی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ ایسے حالات میں کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کی جانب سے ملک کی وفاقی اکائیوں کو خطرے کے طور پر پیش کرنا تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون، بلوچ اور سندھی اقوام کو شرپسند یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا اور مختلف ناموں سے ان کے خلاف طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کا باعث بنے گا۔ احمد خان نے مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان اور پالیسیوں کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کریں اور کہا کہ وفاق کو مضبوط بنانے کا راستہ صوبوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے برابری، آئینی حقوق، سیاسی انصاف اور باہمی احترام میں ہے۔
