بولان (ویب نیوز) بلوچستان کی اہم قومی شاہراہ پر گزشتہ شب شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مہرگڑھ چوکی اور قلم دین ہوٹل کے علاقے میں تقریباً سات گھنٹے تک ٹریفک معطل رہی، جس کے باعث ہزاروں مسافروں، خواتین، بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو شدید گرمی اور حبس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید بارشوں کے بعد پہاڑی علاقوں سے دربی مقام سے سراج آباد تک بڑی چٹانیں اور ملبہ سڑک پر آ گیا، جس کے نتیجے میں مال بردار گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ ٹرانسپورٹرز اور متاثرہ مسافروں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے مون سون بارشوں کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری کیا گیا تھا، تاہم کچھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق ضلعی سطح پر کنٹرول روم نہ ہونے کے باعث مسافروں، مریضوں اور ٹرانسپورٹرز کو کئی گھنٹوں تک شاہراہ کی بندش سے متعلق بروقت اطلاع نہیں مل سکی۔ مسافروں اور ٹرانسپورٹرز نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کمشنر سبی ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ غفلت اور سستی کا نوٹس لے کر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور قومی شاہراہ پر مستقل بنیادوں پر ہنگامی امدادی ٹیمیں تعینات کی جائیں۔ عوام کے شدید احتجاج اور اعلیٰ حکام کی مداخلت کے بعد سات گھنٹے سے زائد عرصے کے بعد سے ملبہ ہٹا کر دونوں اطراف ٹریفک بحال کر دی گئی۔
