مقامی ۲۴ اگست ۲۰۲۶

سیف سٹی نظام کے ذریعے 138 مسروقہ گاڑیاں برآمد، 9 دہشت گردی کے منصوبے ناکام، بگٹی

کوئٹہ (ویب نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی امن و امان کے قیام، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے جرائم اور مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور پولیس کے فوری ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں ادارے کی کارکردگی، نگرانی کے نظام، جرائم کی روک تھام اور ادارے کی استعداد کار بڑھانے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی جی بلوچستان پولیس محمد طاہر خان نے اجلاس کو ادارے کی کارکردگی اور مختلف اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیف سٹی کے مؤثر نگرانی نظام کے ذریعے ملک بھر میں 138 مسروقہ گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ 9 مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی نے دہشت گردی کے بڑے واقعات کو ناکام بنانے میں مدد دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی نے پولیس کو مختلف جرائم کے مقامات سے 631 اہم شواہد بھی فراہم کیے، جن سے جرائم کی تحقیقات اور ملزمان کی شناخت میں مدد ملی۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جرائم کی روک تھام کے عمل کو مزید تیز اور نگرانی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے جدید نگرانی کا نظام صوبے کے دیگر علاقوں تک بھی وسعت دیا جائے گا اور بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات اور تکنیکی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس مقصد کے لیے پنجاب کے وزیراعلیٰ سے باضابطہ رابطہ کرکے تجربات، تکنیکی معاونت اور ادارے کی استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیف سٹی اتھارٹی کی استعداد کار بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں۔