کوئٹہ (ویب نیوز) جمعیت علماء اسلام کوئٹہ کے ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکریٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان کی قومی شاہراہیں قتل و غارت اور لوٹ مار کے مراکز میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ مسافروں سے لوٹ مار، گاڑیاں چھیننے اور مزاحمت کی صورت میں فائرنگ کرکے لوگوں کو قتل کرنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خطرے اور مسلح ڈاکوؤں کی موجودگی کے باعث صوبے کی اہم قومی شاہراہوں پر سفر کرنا عوام کے لیے انتہائی خطرناک بن چکا ہے اور عوام حکومتی و سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی سے شدید مایوس ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے کہا کہ دہشت گردی، ڈکیتی اور مسلح جرائم میں مسلسل اضافے کے باعث مسافر اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہیں ہر ملک کے معاشی اور سماجی نظام میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، تاہم بلوچستان میں ان شاہراہوں پر عوام کے تحفظ کی ضمانت نہ ہونا حکومتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنگین غفلت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی شاہراہوں کی سیکیورٹی فوری طور پر مؤثر بنائی جائے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں اور مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے عملی اور سخت اقدامات کیے جائیں۔
