کوئٹہ (ویب نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں ملک میں ڈویژنل بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کو ملک دشمن اور استعماری منصوبہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 1940ء کی قراردادِ لاہور درحقیقت خودمختار اور مقتدر قومی ریاستوں پر مشتمل یونین کے قیام کی قرارداد تھی، جبکہ کیبنٹ مشن پلان اور بعد ازاں ماؤنٹ بیٹن کے تقسیمِ ہند کے منصوبے میں قومی وحدتوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار دیا گیا تھا اور پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، پنجابی اور بنگالی قومی وحدتوں کی منتخب اسمبلیوں نے پاکستان کے قیام کا فیصلہ کیا، اس لیے پاکستان کو قومی وحدتوں نے وجود بخشا اور کسی استعماری حکمران کو ان وحدتوں کو تقسیم کرنے کا اختیار نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ قیام پاکستان کے بعد استعماری اور رجعتی قوتوں نے قومی وحدتوں کی برابری پر مبنی جمہوری وفاق اور عوامی حکمرانی کی راہ طویل فوجی آمریتوں کے ذریعے روکے رکھی، 1970ء کے انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا اور 1973ء کے آئین کو بھی چار سال بعد ختم کردیا گیا، جبکہ قومی وحدتوں کی جمہوری قوتوں کی جدوجہد کے نتیجے میں 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم منظور ہوئی، جسے بعد کی 26ویں اور 27ویں ترامیم کے ذریعے عملاً بے اثر کردیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق موجودہ حکمران تاریخی قومی وحدتوں کے قومی وجود، تشخص اور خودمختار حیثیت کو نئے صوبوں کے نام پر تقسیم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جس کے نتائج ریاست کے استحکام کے لیے خطرناک ہوں گے۔ پارٹی نے کہا کہ تاریخی پشتونخوا وطن کی تقسیم آج بھی برقرار ہے اور جنوبی پشتونخوا، شمالی پشتونخوا، اٹک اور میانوالی پر مشتمل بولان تا چترال متحد قومی صوبے کے حق سے پشتون قومی وحدت محروم ہے، جبکہ سرائیکی قومی وحدت کو بھی خودمختار حیثیت نہیں دی گئی۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ زبان، ثقافت اور تاریخی حقائق کی بنیاد پر پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی قومی وحدتوں پر مشتمل حقیقی جمہوری وفاق تشکیل دیا جائے، قومی اسمبلی سمیت تمام وفاقی اداروں میں قوموں کی برابری تسلیم کی جائے اور دفاع، خارجہ امور، کرنسی اور مواصلات کے علاوہ تمام اختیارات قومی وحدتوں کو منتقل کیے جائیں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ پشتون اور دیگر قومی وحدتیں اپنے تاریخی، قومی اور تشخصی حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گی اور تمام محکوم اقوام کی جمہوری و وطن پال قوتوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر نئے صوبوں کے منصوبے کو عوامی مزاحمت کے ذریعے ناکام بنائیں۔
