مقامی ۲۲ اگست ۲۰۲۶

سیاسی اختلاف کو بدزبانی اور کردار کشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما

کوئٹہ(ویب نیوز) جمعیت علمائے اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ اصولی اختلاف جمہوری عمل کی روح اور سیاسی جدوجہد کا فطری حصہ ہے، تاہم اختلاف کو الزامات، توہین، گالم گلوچ، کردار کشی اور بدزبانی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار اور سیاسی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کے اظہار کے لیے دلیل، برداشت اور اخلاقی حدود کی پاسداری ضروری ہے، کیونکہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا معاشرے میں برداشت اور مکالمے کی فضا کو نقصان پہنچاتا اور سیاسی و سماجی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے اپنے کارکنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دینی و سیاسی تربیت، اعلیٰ اخلاق اور باوقار گفتگو کے ذریعے معاشرے کے لیے اچھی مثال بنیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین سے نظریاتی اختلاف اپنی جگہ، لیکن ان کی عزت نفس، مقام اور انسانی وقار کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہی بالغ سوچ، اعلیٰ سیاسی تربیت اور نظریاتی کارکن کی اصل پہچان ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ دور میں سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلاف کو نفرت اور تصادم کے بجائے دلیل، مکالمے، برداشت اور باوقار سیاسی رویے کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں تہذیب، برداشت اور مثبت سیاسی مکالمے کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔