کوئٹہ(ویب نیوز) بلوچستان میں معذور ملازمین کے حقوق کے تحفظ، مسائل کے حل اور خصوصی کنوینس الاؤنس میں اضافہ نہ کیے جانے کے حوالے سے ایک اہم ورچوئل اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے مختلف علاقوں سے درجنوں معذور ملازمین نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت بلوچستان یونیورسٹی کے نابینا ملازم نصراللہ شاہوانی نے حاصل کی، جبکہ اجلاس کی میزبانی خزانہ محکمہ کے ملازم نادر شاہ اور محکمہ تعلیم کے ملازم نادر خان نے کی۔ اجلاس میں معذور ملازمین کے لیے خصوصی کنوینس الاؤنس کی عدم ادائیگی اور مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اس الاؤنس میں اضافہ نہ کیے جانے کو اہم مسئلہ قرار دیا گیا۔ شرکاء نے 2023 سے الاؤنس میں اضافہ نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ الاؤنس کی سمری کی حتمی منظوری کے لیے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے رابطہ کیا جائے گا اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے سمری کی منظوری کی درخواست کی جائے گی۔ اجلاس میں ’’ملازمین باہم معذوری یونین بلوچستان‘‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ معذور ملازمین کے مسائل کو منظم اور قانونی طریقے سے اجاگر کیا جا سکے اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کی جا سکے۔ تنظیم کو فعال بنانے، صوبے بھر کے ملازمین کو منظم کرنے اور ابتدائی شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک عبوری ایڈہاک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس میں اللہ رکیا کو ایڈہاک کمیٹی کا سربراہ، نادر شاہ کو محکمہ خزانہ کا سینئر رکن اور نادر خان کو محکمہ تعلیم کا سینئر رکن مقرر کیا گیا۔ کمیٹی بلوچستان بھر کے تمام معذور ملازمین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گی، ان کے مسائل کی نشاندہی کرے گی اور انہیں قانونی و آئینی طریقے سے حکومت کے سامنے پیش کرے گی۔ معذور افراد کے کوٹے پر مکمل عملدرآمد کے لیے بھی کوششیں کی جائیں گی اور اگر کسی جگہ غیر معذور افراد کو معذوروں کے کوٹے پر تعینات کیا گیا ہے تو ان کی نشاندہی کرکے حقیقی مستحق معذور افراد کی تقرری کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ شرکاء نے ایڈہاک کمیٹی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت معذور ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے انہیں ضروری سہولیات فراہم کرے گی۔ اجلاس دعا کے ساتھ خوشگوار اور پُرامید ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔
