مقامی ۱۶ اگست ۲۰۲۶

ژوب میں بی ایس ڈی آئی ٹینڈرز میں مبینہ کرپشن اور سیاسی مداخلت کے خلاف ٹھیکیداروں کا احتجاج

ژوب (ویب نیوز) گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں محمد زاہد، ممو لالا، محمد آصف، عبد الوحید ایربزئی، گل خان، نعمت خان، نقیب اللہ اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ژوب اور شیرانی میں حالیہ ٹینڈرز، بالخصوص بی ایس ڈی آئی کے تحت ہونے والے ٹینڈرز میں سول انتظامیہ کے حکام کی جانب سے مبینہ بدعنوانی، غیر قانونی شرائط اور سیاسی مداخلت کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ڈی آئی ایک قابلِ تحسین پروگرام ہے جس سے پسماندہ اور ضرورت مند علاقوں کے عوام مستفید ہو رہے ہیں اور مختصر عرصے میں علاقے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، تاہم افسوسناک طور پر بعض سول افسران اس پروگرام کو تنازعات اور مبینہ کرپشن کا شکار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ژوب اور شیرانی میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، آبپاشی اور دیگر سرکاری اداروں کے حالیہ ٹینڈرز میں بی پیپرا کے مقررہ قوانین کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے اور مبینہ بدعنوانی کے لیے ٹھیکیداروں پر من گھڑت اور غیر مناسب شرائط عائد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان بے بنیاد شرائط کی آڑ میں رجسٹرڈ اور معیار پر پورا اترنے والے ٹھیکیداروں کو تکنیکی بنیادوں پر بولی کے عمل سے باہر کیا جا رہا ہے اور من پسند کمپنیوں کو ٹینڈرز دینے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف ٹھیکیداروں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں بلکہ بی ایس ڈی آئی جیسے شفاف پروگرام کی ساکھ بھی سوالیہ نشان بن رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض افسران دیگر علاقوں سے کمپنیوں کے نام لا کر ترقیاتی منصوبوں میں شامل کر رہے ہیں، جسے بی ایس ڈی آئی کے ترقیاتی پروگرام کو ناکام اور متنازع بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹھیکیدار رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ حکام اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پی ایس ڈی پی کے نام پر منصوبوں کے ذریعے ذاتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کمانڈنٹ ژوب ملیشیا اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز سے مطالبہ کیا کہ افسران کی جانب سے وضع کردہ شرائط، میرٹ کی خلاف ورزیوں اور ٹینڈرنگ کے عمل کا فوری نوٹس لیا جائے اور بی ایس ڈی آئی کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ حکام کو پابند کیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبے صرف اہل اور مستحق ٹھیکیداروں کو مکمل میرٹ پر دیے جائیں۔