کوئٹہ (ویب نیوز)سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی موجودہ گھمبیر حالات میں اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھتے ہوئے مزید منظم ہوگی، جبکہ نئے صوبوں کا قیام ملک کو مزید پسماندگی کی جانب دھکیل دے گا، صوبے تاریخی بنیادوں، ثقافت اور زمینی حقائق کے مطابق بنائے جانے چاہئیں، کسی فرد یا ادارے کی خواہش پر نہیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میر احمد مری نے اپنے دوستوں، عزیزوں اور برادری کے ہمراہ 60 خاندانوں سمیت نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے، جنہیں پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ مختلف اقوام اور طبقات نیشنل پارٹی کی عوام دوست پالیسیوں سے متاثر ہوکر پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی ملک کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اقتدار یا وزارتوں کے پیچھے نہیں بھاگتی، ماضی میں وزارتوں کی پیشکش کے باوجود پارٹی نے اصولی سیاست کو ترجیح دی۔ انہوں نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوراب کا واقعہ قابل مذمت ہے، موجودہ حالات میں عوام کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے، بلوچستان کے بنیادی مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی صوبوں کی تقسیم کے خلاف ہے اور اس معاملے پر مذمت کے ساتھ مزاحمت بھی کرے گی، صوبے تاریخ، ثقافت اور زمینی حقائق کی بنیاد پر بنائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مقتدر حلقوں کی جانب سے دباؤ آتا ہے تو نئے صوبوں کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں اور سیاست دانوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بھی اس معاملے کو استعمال کیا جاتا ہے، ایسے اقدامات ملک کو مزید پسماندگی کی طرف لے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے وفاقی حکومت کے سامنے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے 17 نکات پیش کیے ہیں اور ان کے حصول کے لیے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ملک کو مستقل سیاسی استحکام اور سنجیدہ پالیسیوں کی ضرورت ہے کیونکہ اقتدار اور حزب اختلاف کی صورتحال مستقل نہیں ہوتی۔
