مقامی ۱۶ اگست ۲۰۲۶

راڑہ شم اور اندر پوڑ کو موسیٰ خیل کے ساتھ برقرار رکھا جائے: قومی مشران کا مطالبہ

کوئٹہ (ویب نیوز) اندر پوڑ کے قومی و سیاسی رہنماؤں ملک عطا محمد اور ملک لال جان نے کوئٹہ پریس کلب میں ایک اہم اور بھرپور پریس کانفرنس کرتے ہوئے راڑہ شم اور اندر پوڑ کو ضلع موسیٰ خیل کے ساتھ برقرار رکھنے اور بالخصوص 8 جولائی 2026 کے نوٹیفکیشن کے تحت اندر پوڑ کو موسیٰ خیل سے الگ کرکے ضلع بارکھان میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اندر پوڑ اور راڑہ شم کو ان کی سابقہ انتظامی حیثیت کے مطابق موسیٰ خیل کے ساتھ برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ فیصلہ اندر پوڑ کے عوام کو ان کے ضلع، تحصیل، آبائی علاقے اور ڈویژن سے جدا کرتا ہے، جبکہ اندر پوڑ کے عوام نے 25 جولائی کو اکثریتی رائے سے بارکھان میں شامل کیے جانے کے خلاف قرارداد بھی منظور کی ہے۔ ملک عطا محمد نے 2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسیٰ خیل میں بلوچ آبادی 21 ہزار 672، اندر پوڑ میں 8 ہزار 4 اور راڑہ شم میں 2 ہزار 857 افراد پر مشتمل ہے، یوں اندر پوڑ اور راڑہ شم میں بلوچ آبادی کی مجموعی تعداد 10 ہزار 861 بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی تقسیم کے باعث موسیٰ خیل کی بلوچ آبادی دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اندر پوڑ کے مرکزی علاقے سے موسیٰ خیل کا ضلعی ہیڈکوارٹر 61 کلومیٹر جبکہ بارکھان کا ضلعی ہیڈکوارٹر 112 کلومیٹر دور ہے، یعنی موسیٰ خیل 51 کلومیٹر قریب ہے، جبکہ اندر پوڑ کا بارکھان کے ساتھ براہ راست زمینی راستہ بھی موجود نہیں اور درمیان میں راڑہ شم کا علاقہ واقع ہے۔ ان کے مطابق بارکھان میں شامل کیے جانے کے بعد عوام کو شناختی کارڈ، ب فارم، لوکل سرٹیفکیٹ اور دیگر قانونی دستاویزات میں ضلع کا نام تبدیل کرانے کے باعث اضافی مشکلات، وقت اور مالی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ملک عطا محمد نے کہا کہ اندر پوڑ کے عوام نے موسیٰ خیل میں روزگار کے لیے دکانیں اور کاروباری مراکز قائم کر رکھے ہیں اور بارکھان میں شمولیت کے بعد نئے کاروباری مراکز قائم کرنا غریب عوام کے لیے انتہائی مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ خیل مختلف اقوام کا ایک پرامن گلدستہ ہے جہاں اقوام باہمی احترام اور رشتہ داری کے رشتوں میں جڑی ہوئی ہیں۔ اندر پوڑ کے بیشتر لوگ مالداری اور سرکاری ملازمتوں سے وابستہ ہیں جبکہ علاقے کے قبرستان میں پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے شہداء کی قبریں بھی موجود ہیں جو علاقے کے عوام کی حب الوطنی کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اندر پوڑ یونین کونسل میں دو ہائی اسکول، دو مڈل اسکول، لڑکوں اور لڑکیوں کے 20 اسکول، دو ڈسپنسریاں، ایک بنیادی مرکز صحت، تین موبائل ٹاورز اور پانی کی فراہمی کے پانچ منصوبے موجود ہیں۔ مختلف علاقوں میں بجلی کے منصوبے بھی مکمل کیے گئے ہیں، راڑہ شم سے کلی پاترا تک پکی سڑک تعمیر کی گئی ہے، جبکہ اندر پوڑ یونین کونسل میں دس چھوٹے ڈیم، مویشیوں کی تین ڈسپنسریاں اور ایک پولیس تھانہ بھی موجود ہے۔ قومی مشران نے کہا کہ یہ تمام ترقیاتی کام موسیٰ خیل کے ساتھ اندر پوڑ کے طویل انتظامی تعلق کا واضح ثبوت ہیں، اس لیے اس تاریخی اور انتظامی تعلق کو برقرار رکھا جائے۔