مقامی ۱۶ اگست ۲۰۲۶

نجی ملکیتی اراضی پر سرکاری ڈیری فارم کا منصوبہ ناقابل قبول ہے: بازی قبائل

کوئٹہ (ویب نیوز) بازی قبائل کے معتبر قومی رہنماؤں اور عمائدین نے کوئٹہ تحصیل و ضلع کے موضع خشکابہ ژور اغبرگ اور ٹپہ نوحصار کے علاقوں میں اپنی آبائی اراضی سے متعلق جاری تنازعات، مبینہ تجاوزات اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مجوزہ سرکاری ڈیری فارم منصوبے کے خلاف ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس میں علاقے کی اراضی، ریونیو ریکارڈ، عدالتی احکامات اور مبینہ بے ضابطگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مذکورہ اراضی کے حوالے سے بلوچستان بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر کے سامنے ازخود نوٹس کیس نمبر 06/2026/SMBR میں 18 جون 2026 کو حکم جاری کیا گیا تھا، جبکہ 2024 کے سیٹلمنٹ ریکارڈ کی دوبارہ جانچ، حدود کی تصدیق اور ریونیو سروے کا عمل جاری ہے۔ قومی عمائدین نے کہا کہ جب تک ریونیو ریکارڈ اور اراضی کی حدود سے متعلق معاملات حتمی طور پر حل نہیں ہوتے، اس علاقے میں کسی نئی سرکاری یا تجارتی منصوبے کو آگے بڑھانا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی اراضی پر اس سے قبل جیو ہاؤسنگ اسکیم کے نام سے ایک منصوبہ بھی تجویز کیا گیا تھا، جس کی منظوری اور این او سی سے متعلق معاملات تاحال حل طلب ہیں، تاہم اس کے باوجود اشتہارات اور پلاٹوں کی فروخت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ عمائدین نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی فرد یا ادارے کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ بازی قبائل کے مطابق اب اسی متنازع اراضی پر ڈیری فارم کا منصوبہ تجویز کیا جا رہا ہے، جس پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے جغرافیائی خدوخال اور ناہموار زمین کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کی تکنیکی اور ماحولیاتی موزونیت کا غیر جانبدارانہ جائزہ ضروری ہے۔ قومی عمائدین نے سوال اٹھایا کہ اگر زمین کی ملکیت، ریونیو اور حدود کے معاملات مکمل طور پر واضح نہیں تو کس قانونی اور انتظامی بنیاد پر اس اراضی پر منصوبے کی منظوری یا عملی پیش رفت کی جا رہی ہے؟ انہوں نے کیو ڈی اے کے بعض حکام اور متعلقہ افسران پر مبینہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر شفاف فیصلوں کے الزامات بھی عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے کسی غیر جانبدار ادارے سے تحقیقات کرائی جائیں۔ قومی عمائدین نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت نہیں بلکہ آبائی اراضی، قانون، عدالتی احکامات اور عوامی مفادات کا تحفظ ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بلوچستان بالخصوص کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال اور قبائلی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اراضی کے معاملات انتہائی احتیاط اور شفافیت کے ساتھ حل کیے جائیں اور کسی فریق کو قانون ہاتھ میں لینے یا متنازع اراضی پر زبردستی ترقیاتی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ بازی قبائل نے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، نیب، بلوچستان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جیو ہاؤسنگ اسکیم، این او سی سے متعلق معاملات، اراضی کی الاٹمنٹ، مجوزہ ڈیری فارم منصوبے اور متعلقہ افسران کے کردار کے حوالے سے غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک ریونیو ریکارڈ، حدود اور ملکیت کے تنازعات واضح نہیں ہو جاتے، متنازع اراضی پر کسی بھی منصوبے کی پیش رفت روک دی جائے اور تمام اقدامات قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق کیے جائیں۔