کوئٹہ(ویب نیوز)بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث قومی شاہراہوں پر زمینی سفر متاثر ہونے اور کوئٹہ سے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش یا محدود ہونے کے بعد فضائی سفر بھی شہریوں کے لیے انتہائی مہنگا ہوگیا ہے۔ زمینی سفر محدود ہونے کے باعث فضائی سفر کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مسافروں اور ٹریول ایجنٹس کے مطابق بعض پروازوں میں کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے کوئٹہ کے ٹکٹ کی قیمت ایک لاکھ سے ایک لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کوئٹہ سے اسلام آباد کا فضائی ٹکٹ بھی تقریباً ایک لاکھ روپے اور لاہور کا ٹکٹ 80 سے 85 ہزار روپے تک فروخت ہورہا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث سڑک کے ذریعے سفر مشکل ہوگیا ہے اور فضائی سفر آمدورفت کا اہم متبادل رہ گیا ہے، تاہم محدود نشستوں اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کرایوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مسافروں اور کاروباری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایئر لائنز اضافی پروازیں شروع کرکے نشستوں کی تعداد بڑھائیں تاکہ کرایوں میں غیر معمولی اضافے کو روکا جاسکے۔ انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، متعلقہ ہوا بازی اداروں اور ایئر لائنز سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاجروں کے مطابق کوئٹہ اور کراچی کے درمیان زمینی اور فضائی رابطہ بلوچستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے اور طویل عرصے تک شاہراہوں کی بندش سے تجارت، ضروری اشیا کی ترسیل اور عوام کے اخراجات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ مسافروں نے مطالبہ کیا کہ زمینی راستوں کی پابندی کے ساتھ مناسب متبادل سفری سہولیات فراہم کی جائیں، اضافی پروازوں کا انتظام کیا جائے اور پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
