مقامی ۱۵ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان کے وزیر داخلہ: دہشت گردوں سے قومی شاہراہوں کو جلد پاک کرائیں گے

کوئٹہ(ویب نیوز)بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے معاون وزیر داخلہ بابر یوسفزئی کے ہمراہ کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے یوم آزادی بھرپور انداز میں منایا اور بہترین سیکیورٹی انتظامات پر سیکیورٹی فورسز قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے انتخابی حلقے قلات میں یوم آزادی کی تقریبات اور مختلف اداروں کے ساتھ اہم اجلاسوں کے بعد بغیر سیکیورٹی اسکواڈ کے کوئٹہ واپسی کے دوران ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ پولیس اہلکاروں نے مسلح افراد کے خلاف بہادری سے مزاحمت کی، تاہم پولیس کی ایک گاڑی مسلح افراد کے گھیرے میں آگئی، جس کے بعد مستونگ میں ایف سی، اے ٹی ایف اور پولیس نے بروقت کارروائی کی۔ واقعے میں سیکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچ عوام بہت کچھ برداشت کرچکے ہیں اور مسلح افراد حقوق یا آزادی کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ ان کی قیادت یرغمال ہے اور انہیں بھارت اور افغانستان کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا کوئی علاقہ نو گو ایریا نہیں، تاہم مسلح افراد قومی شاہراہوں پر سرگرم ہیں، کسانوں سے بھتہ وصول کرتے اور خواتین کی توہین کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں خالق آباد اور قلات میں ایک بھی ایمبولینس دستیاب نہیں تھی، جبکہ اب 30 سے 35 تک ایمبولینسیں فراہم کی جاچکی ہیں، لیکن مسلح افراد اب عوام سے یہ سہولیات بھی چھین رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کیا جارہا ہے اور بلوچ عوام کو اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں قبائلی تنازع کے باعث چھ خواتین قتل ہوچکی ہیں اور واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔