کوئٹہ(ویب نیوز)بولان میں دھماکے کے باعث متاثر ہونے والی 18 انچ قطر کی مرکزی گیس پائپ لائن چوتھے روز بھی بحال نہ ہوسکی، جس کے باعث کوئٹہ، مچھ، مستونگ، قلات، پشین اور زیارت سمیت متعدد علاقوں میں گیس کا بحران برقرار ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ذرائع کے مطابق سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث کمپنی کی تکنیکی ٹیمیں پائپ لائن کی مرمت کے لیے جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکیں اور توقع ہے کہ آج سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد مرمتی کام شروع کردیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں سے اجازت ملتے ہی تکنیکی ٹیموں کو علاقے میں روانہ کیا جائے گا اور پائپ لائن کی بحالی کا کام شروع ہوگا۔ پائپ لائن متاثر ہونے کے بعد بعض علاقوں میں گیس کی فراہمی مکمل طور پر بند ہے جبکہ کچھ علاقوں میں انتہائی کم پریشر کے ساتھ جاری ہے۔ کوئٹہ کے سریاب، مشرقی بائی پاس اور دیگر علاقوں کے رہائشی کم گیس پریشر کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں اور گھریلو ضروریات و کھانا پکانے میں دشواری کا سامنا کررہے ہیں۔ طویل گیس بندش کے باعث متعدد افراد متبادل ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ گھریلو صارفین کے ساتھ تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کلیئرنس کا عمل جلد مکمل کرکے متاثرہ پائپ لائن کی مرمت فوری طور پر شروع کی جائے۔ ایس ایس جی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرمت کے لیے ٹیمیں تیار ہیں اور کلیئرنس ملتے ہی کام شروع کردیا جائے گا۔ حکام کے مطابق مرمت مکمل ہونے کے بعد متاثرہ علاقوں میں گیس کی فراہمی مرحلہ وار بحال ہوگی اور گیس پریشر معمول پر آنے میں بھی کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ دوسری جانب پائپ لائن دھماکے کی تحقیقات بھی جاری ہیں اور سیکیورٹی ادارے واقعے کی وجوہات اور اس میں ملوث افراد کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کررہے ہیں۔
