کوئٹہ (ویب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے تربت میں دھماکے اور مستونگ میں وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ اور نہتے لوگوں کو نشانہ بنانے والے کسی صورت بلوچستان کے خیرخواہ نہیں، منفی عناصر عوام میں خوف و ہراس پیدا کرکے صوبے کو مزید بدامنی، پسماندگی اور تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربت میں دھماکا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے جس میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بلوچستان پہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی، معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا بلوچستان کے عوام کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔ جو عناصر عام لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے تشدد اور دھماکوں کا سہارا لے رہے ہیں، وہ نہ بلوچستان کے عوام کے خیرخواہ ہیں اور نہ ہی صوبے کے مستقبل سے مخلص ہیں، کیونکہ بے گناہ شہریوں کا خون بہا کر کسی مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے چاہئیں اور وقتی ردعمل کے بجائے مستقل بنیادوں پر امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حملے اور دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کی جائے۔ میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو امن، روزگار، تعلیم، صحت اور ترقی کے مواقع درکار ہیں، خوف، تشدد اور لاشیں نہیں۔ بلوچستان کا راستہ امن، سیاسی مکالمے، جمہوری جدوجہد اور عوام کی خوشحالی سے ہوکر گزرتا ہے، تشدد اور خوف سے نہیں۔ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کارروائی کو بلوچستان کے مفاد یا حقوق کی جدوجہد کا نام نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ عوام کا تحفظ اور بلوچستان کا پُرامن مستقبل ہر سیاسی و سماجی قوت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
