مقامی ۱۴ اگست ۲۰۲۶

نادرا کی جانب سے 1979ء سے پہلے کے ثبوت کی شرط غیر منصفانہ ہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے نادرا کی جانب سے پشتون عوام کے شناختی کارڈ، شہریت اور دیگر شناختی دستاویزات کے حصول کے لیے 1979ء سے پہلے کے ثبوت پیش کرنے کی شرط کو سخت، غیر منصفانہ اور عوام دشمن قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان اور نادرا سے فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں شہریوں کو شناختی دستاویزات کے حصول اور تصدیق کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کئی خاندانوں کے پاس کئی دہائیاں پرانے سرکاری ریکارڈ موجود نہیں۔ پارٹی نے کہا کہ 1979ء سے پہلے کے ثبوت کو لازمی قرار دینا زمینی حقائق اور تاریخی حالات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے، خصوصاً دیہی اور قبائلی علاقوں میں ماضی کے ریکارڈ محفوظ نہ رہنے کی متعدد وجوہات ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اس شرط کو ختم یا فوری طور پر تبدیل کرکے کم از کم 1985ء سے پہلے کے قابل قبول سرکاری ثبوت تسلیم کیے جائیں اور شہریوں کے لیے آسان، شفاف اور قابل عمل طریقۂ تصدیق وضع کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ شناختی کارڈ ہر شہری کا بنیادی قانونی اور شہری حق ہے اور شناختی دستاویزات میں رکاوٹوں کے باعث شہری سرکاری خدمات، تعلیم، روزگار، بینکاری، سفری سہولیات اور جائیداد سمیت متعدد بنیادی حقوق سے متاثر ہوتے ہیں۔ پارٹی نے پرانے ریکارڈ سے محروم خاندانوں کے لیے خصوصی سہولت مراکز اور متبادل قانونی طریقۂ تصدیق متعارف کرانے، زیر التوا شناختی کارڈ کیسز کو تیزی سے نمٹانے اور نادرا مراکز پر غیر امتیازی سلوک یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں مؤثر انداز میں اٹھائیں اور 1985ء سے پہلے کے قابل قبول ثبوت تسلیم کرنے کے لیے قانون سازی یا پالیسی میں ترمیم کی راہ ہموار کریں۔ پارٹی نے واضح کیا کہ عوام کے بنیادی شہری حقوق کے حصول میں غیر ضروری رکاوٹیں قبول نہیں کی جائیں گی اور وہ آئینی، جمہوری اور پارلیمانی ذرائع سے اس مسئلے کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔