قلعہ عبداللہ (ویب نیوز) بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں دو خاندانوں کے درمیان 24 سال سے جاری خونی دشمنی بالآخر ختم ہوگئی، جس میں 25 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کی کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں، جبکہ گزشتہ برسوں کے دوران سرداروں، خانوں، ملکوں اور دیگر قبائلی عمائدین کی متعدد جرگے بھی اس دشمنی کو ختم کرانے میں ناکام رہے تھے۔ صلح کے بعد وہ ماں اور بیٹی جو 24 سال سے ایک دوسرے سے جدا تھیں، ایک بار پھر ملیں، جبکہ خاندان کے بعض افراد نے بھی پہلی مرتبہ اپنے قریبی رشتہ داروں سے بالمشافہ ملاقات کی۔ یہ دشمنی 2002 میں حاجی امان اللہ کے قتل کے بعد شروع ہوئی تھی اور اس کے خاتمے کے لیے تقریباً 48 جرگے منعقد کیے گئے، تاہم سرداروں، خانوں، ملکوں، علما اور دیگر قبائلی رہنماؤں کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ عبدالستار اچکزئی کے مطابق کوئٹہ میں مقیم علاقے کے نوجوانوں نے چند ماہ قبل ایک شادی کی تقریب کے دوران فیصلہ کیا کہ وہ اس طویل دشمنی کے خاتمے کے لیے خود کوشش کریں گے۔ نوجوانوں نے دونوں خاندانوں کے عمائدین سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، اعتماد بحال کیا اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات کیے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں تقریباً دو ہفتوں میں تنازع کے حل کی راہ ہموار ہوئی اور دو ماہ کے اندر باقاعدہ جرگہ منعقد کیا گیا، جس میں دونوں خاندانوں کے درمیان صلح ہوگئی۔ صلح کی تقریب میں مختلف علاقوں سے قبائلی عمائدین، نوجوانوں اور عوام سمیت دو ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ دونوں خاندانوں کے افراد نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، معذرت کی اور مستقبل میں امن، بھائی چارے اور باہمی طور پر پرامن زندگی گزارنے کا عزم کیا۔ مقامی روایات کے مطابق 50 لاکھ روپے دیت مقرر کی گئی، جبکہ قتل میں ملوث فریق پر 10 سال کے لیے علاقے میں داخلے اور قلعہ عبداللہ بازار میں جائیداد خریدنے پر پابندی عائد کی گئی۔ قبائلی رہنما جیلانی خان غبیزئی نے نوجوانوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عموماً صلح کرانے کی ذمہ داری قبائلی عمائدین کی ہوتی ہے، لیکن نوجوانوں نے یہ اہم قدم اٹھا کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ قلعہ عبداللہ کے اسسٹنٹ کمشنر منور حسین مگسی نے کہا کہ یہ ضلع قبائلی دشمنیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے اور اس وقت بھی مختلف قبائل، گروہوں اور خاندانوں کے درمیان 42 دشمنیاں فعال ہیں، جن میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر تنازعات زمینوں، ٹیوب ویلوں اور زرعی پانی کے معاملات پر پیدا ہوتے ہیں اور زمینوں کے پرانے اور غیر واضح ریکارڈ کے باعث یہ تنازعات بعض اوقات خونی دشمنیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے اور نئے بندوبست کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ افغان سرحد سے قربت، اسلحہ و منشیات کی اسمگلنگ اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد بھی قبائلی تنازعات کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان دشمنیوں کے باعث تعلیمی و صحت کے مراکز بھی متاثر ہوئے ہیں اور لوگ اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، جبکہ ان مسائل کا مستقل حل عوامی آگاہی، تعلیم اور پرانے تنازعات کے پرامن حل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
