مقامی ۱۲ اگست ۲۰۲۶

کوئٹہ میں منشیات کا پھیلاؤ تشویشناک حد تک بڑھ گیا، نوجوان نسل تباہی کے خطرے سے دوچار

کوئٹہ(ویب نیوز) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں، چوراہوں، پارکوں اور پلوں کے نیچے نشے کی حالت میں افراد کی موجودگی معمول بنتی جارہی ہے، جس پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق اس سنگین سماجی بحران کی روک تھام کے لیے مؤثر اور مستقل اقدامات نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید خراب ہورہی ہے، جبکہ منشیات کا سب سے خطرناک اثر نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے۔ آئس، ہیروئن، چرس، نشہ آور گولیوں اور دیگر منشیات کے استعمال نے متعدد نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور معمول کی زندگی سے دور کردیا ہے اور بعض نوجوان اپنے خاندانوں سے بھی الگ ہوچکے ہیں۔ ایک نشے کے عادی نوجوان نے اپنی دردناک داستان بیان کرتے ہوئے بتایا کہ دوستوں کے اصرار پر اس نے آئس کا استعمال شروع کیا، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ایک دن بھی نشہ نہ ملنے پر زندگی مشکل محسوس ہوتی ہے اور اسے اس سے نجات دلانے والا کوئی نہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسئلے کا ایک اہم پہلو علاج اور بحالی کی سہولیات کی کمی ہے، بعض مراکز میں محدود وسائل کی شکایات ہیں جبکہ بڑی تعداد میں نشے کے عادی افراد علاج تک نہیں پہنچ پاتے۔ جو افراد علاج شروع کرتے ہیں، انہیں مناسب اور مستقل بحالی کی سہولت نہ ملنے کے باعث دوبارہ منشیات کی طرف جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ شہریوں کے مطابق منشیات کا مسئلہ اب صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ کم عمر بچوں اور خواتین میں بھی اس کے پھیلاؤ کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ عوام نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز مؤثر کارروائی کی جائے، ہر ضلع میں مفت اور فعال بحالی مراکز قائم کیے جائیں اور ان افراد کو بھی قانونی طریقے سے علاج و بحالی مراکز تک پہنچانے کا مؤثر نظام بنایا جائے جو خود علاج کے لیے آمادہ نہیں ہوتے۔ شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں، مساجد اور دیگر عوامی مقامات پر منشیات کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں، والدین اور اساتذہ کو تربیت دی جائے اور نوجوانوں کو کھیل، تعلیم اور دیگر صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف صرف عارضی کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن، عادی افراد کی بحالی اور نوجوان نسل میں شعور اجاگر کرنے پر مشتمل جامع اور مستقل حکمت عملی ہی اس بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔