کوئٹہ (یب نیوز) جمعیت علمائے اسلام نظریاتی پاکستان کے قائم مقام مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکریٹری شفیع الدین، نائب سیکریٹری مولانا محمود الحسن قاسمی، مرکزی سیکریٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی اور دیگر رہنماؤں نے پاکستان کے 79ویں یوم ازادی کے موقع پر کہا ہے کہ پاکستان سب کا وطن ہے اور اس کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے، تاہم ان کے مطابق انگریزوں سے ازادی حاصل کیے 78 سال گزرنے کے باوجود ملک میں عدالتیں اب بھی انگریزوں کے پرانے قوانین کے تحت فیصلے کر رہی ہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کا اثر برقرار ہے، دوسری جانب بینکوں میں سودی معاشی نظام معیشت کے لیے نقصان دہ اور اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی نظام کے نفاذ، 1973 کے ائین کی اسلامی دفعات پر عملدرامد اور سودی نظام کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ جے یو ائی نظریاتی رہنماؤں نے بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں شاہراہوں، بجلی، گیس اور انٹرنیٹ کی بندش کے ساتھ چمن، تفتان، گوادر اور تربت کی سرحدوں کی بندش اور تجارت میں تعطل نے تاجروں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان مسائل کے باعث نوجوان منشیات اور دیگر جرائم کی جانب بھی مائل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق رقبے کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں نہ موٹروے ہے، نہ پینے کا صاف پانی اور نہ ہی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مطلوبہ بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ جے یو ائی نظریاتی رہنماؤں نے وفاق پر الزام عائد کیا کہ بلوچستان کے ساتھ محاذ جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور صوبے کے قدرتی وسائل اور معدنیات سے عوام کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ان سے استفادہ کیا جا رہا ہے، جبکہ تاجروں کو گندم کے ایک ٹرک کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے تک ادا کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں سے گوادر کے مقامی لوگوں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا اور نہ ہی نئی صنعتیں قائم ہوئیں، جس کے باعث ان کے بقول کمزور اقتصادی پالیسی اور ناقص حکمرانی کی وجہ سے بلوچستان غربت، بدامنی، بے روزگاری اور سنگین معاشی مسائل کا شکار ہو کر ’’مسائلستان‘‘ بن چکا ہے۔
