کوئٹہ (ویب نیوز) ــ گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان (جی ٹی اے بی) کے رہنماؤں کے ایک وفد نے، جس کی قیادت میر ہزار خان مری کر رہے تھے، نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اساتذہ کے مسائل، معطل اساتذہ کی بحالی، سرکاری ملازمین کے حقوق، گرینڈ الائنس کی جدوجہد اور موجودہ صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں شان جان رند، وڈیرہ غفار کیتھران، غلام نبی حسنی، محمد ذاکر رند، نظام لاشاری اور مولا بخش بلوچ سمیت جی ٹی اے بلوچستان کے دیگر رہنما بھی شامل تھے۔ جی ٹی اے رہنماؤں نے گرینڈ الائنس کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی کے لیے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین طویل عرصے سے اپنے قانونی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، تاہم اس دوران متعدد اساتذہ کو معطل کیا گیا جس کے باعث وہ اور ان کے خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ وفد نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے مطالبہ کیا کہ معطل اساتذہ کے معاملے کا ذاتی طور پر جائزہ لیا جائے اور ان کی بحالی کے لیے اپنے سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ کو بروئے کار لایا جائے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی ہمیشہ اساتذہ، سرکاری ملازمین، مزدوروں اور تمام محنت کش طبقوں کے قانونی حقوق اور مفادات کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے اور آئندہ بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی سیاست کا بنیادی مقصد عوام، ملازمین، مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور اساتذہ کے حقوق کا تحفظ ہے اور ملازمین کے جائز مطالبات کو جمہوری و قانونی جدوجہد کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ معاشرے کی تعمیر اور نئی نسل کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ہر استاد کے روزگار سے متعلق معاملہ انتہائی حساس ہے اور حکومت کو چاہیے کہ انہیں فرائض کی انجام دہی کے لیے مناسب ماحول فراہم کرے۔ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ معطل اساتذہ اور دیگر متاثرہ ملازمین کی بحالی کے لیے کوششیں کریں گے اور متعلقہ حکام و ذمہ دار حلقوں سے بھی بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ معاملہ صرف سیاسی یا احتجاجی مسئلہ بننے کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ ملازمین کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ سرکاری اداروں کے ملازمین ذہنی دباؤ اور بے اعتمادی سے نکل کر اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اساتذہ کے روزگار کا تحفظ صرف ایک فرد یا چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا معاملہ ہے، کیونکہ اگر اساتذہ اپنے روزگار کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہوں تو اس کے اثرات تعلیمی نظام اور طلبہ پر بھی پڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سرکاری ملازمین سروس اسٹرکچر، ترقیوں، تبادلوں، تنخواہوں، ملازمت کے تحفظ اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے حل کے لیے حکومت، ملازمین کی نمائندہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مسلسل رابطے اور بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔ انہوں نے بلوچستان جیسے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں اساتذہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم و تربیت کے نظام کو مضبوط کیے بغیر صوبے کی ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بہتر مستقبل فراہم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو مضبوط، باعزت اور بنیادی سہولیات سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے زور دیا کہ ملازمین کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں اور اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، اس لیے ملازمین کو اپنے قانونی مطالبات پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ جی ٹی اے بلوچستان کے وفد نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جانب سے اساتذہ کے مسائل کی ذاتی نگرانی اور معطل اساتذہ کی بحالی کے لیے کوششوں کی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کی کوششوں سے اساتذہ اور دیگر ملازمین کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔
