کوئٹہ (ویب نیوز) ــ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں روزانہ افواہوں اور مبینہ غلط اطلاعات کا پھیلاؤ عوام میں مایوسی اور تشویش بڑھا رہا ہے۔ پارٹی کے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی اور سیکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام ہیں، جبکہ ملک بھر میں پشتون تاجر، مزدور، محنت کش اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد مبینہ طور پر مشکلات اور ہراسانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد کو پولیس تھانوں میں حراست میں رکھا جاتا ہے اور بھاری رشوت کے عوض رہا کیا جاتا ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کہا کہ بلوچستان کی مختلف شاہراہوں پر آمدورفت مشکل ہو گئی ہے جس کے باعث کسان اور تاجر اپنی فصلوں اور باغات کی پیداوار دیگر شہروں تک پہنچانے کے حوالے سے پریشان ہیں۔ بیان میں موبائل فون سروسز کی ممکنہ بندش کی اطلاعات کو بھی عوام میں خوف اور تشویش بڑھنے کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔ پارٹی نے بلوچستان میں بدامنی، مہنگائی اور بے روزگاری پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے کی شاہراہوں، شہروں اور دیہات میں مسلح غیر رسمی گروہوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مطابق پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی ہدایت پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ مرکزی سیکریٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کی سربراہی میں جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں پشتونوں کو درپیش مسائل سے متعلق امور پر تفصیلی غور اور ان کے حل کے لیے آئینی، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ یہ تین روزہ جرگہ 30 اور 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کو کوئٹہ میں منعقد ہوگا۔ بیان میں جرگے کے تمام مدعو شرکا کو شرکت کی دعوت دیتے ہوئے ان سے اپیل کی گئی ہے کہ جرگے میں شرکت کے ذریعے عوام دوستی کا ثبوت دیں۔ پارٹی نے کہا کہ پشتونوں کے خلاف مبینہ ناروا سلوک کے خاتمے، پشتونخوا وطن میں امن کے قیام، کاروبار اور روزگار کے تحفظ، معدنی وسائل کی ملکیت کے حق کے تعین اور قدرتی وسائل میں عوام کے حصے کے لیے اس کی جدوجہد جاری رہے گی۔
