کراچی (ویب نیوز) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی سندھ کراچی کے زیر اہتمام ملی شہید اور سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی پانچویں برسی کے موقع پر منعقدہ سیمینار میں مختلف قراردادیں منظور کی گئیں جن میں شہید عثمان خان کاکڑ کی جمہوری جدوجہد، قومی خدمات اور محکوم اقوام کے حقوق کے لیے قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ سیمینار نے ملک میں رائج ہائبرڈ نظام اور فارم 47 کے ذریعے وجود میں آنے والی اسمبلیوں کو مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر آزاد، شفاف، منصفانہ اور غیر جانب دار انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تاکہ اقتدار حقیقی عوامی نمائندوں کے حوالے کیا جاسکے۔ قراردادوں میں سندھ میں پشتون عوام کے ساتھ مبینہ نسلی تعصب، غیر قانونی پروفائلنگ، شناختی کارڈز کی بندش، ہراسانی، گرفتاریوں اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹوں کی مذمت کرتے ہوئے مساوی آئینی و قانونی حقوق اور جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔ سیمینار نے پشتونخوا وطن اور بلوچستان میں بدامنی، دہشت گردی، مسلح جتھوں کی سرگرمیوں اور عوام کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔ قرارداد میں پاکستان کو کثیرالقومی وفاق قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ تاریخی پشتون وطن کی قومی و جغرافیائی وحدت کو ’’پشتونخوا‘‘ کے نام سے متحدہ وفاقی اکائی کا آئینی درجہ دیا جائے جبکہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز کی مخالفت کی گئی اور تمام قومی وفاقی اکائیوں کے آئینی، سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
