کوئٹہ (ویب نیوز) صوبائی وزراء میر صادق عمرانی، میر ضیاء اللہ لانگو، میر علی مدد جتک، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے خضدار میں عاصمہ جتک کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر علی مدد جتک نے کہا کہ عاصمہ جتک کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد انہوں نے قرآن پاک اٹھا کر حکومت سے انصاف کی اپیل کی، لیکن بعد ازاں مبینہ طور پر ان کے والد کو بھی قتل کر دیا گیا جو انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور احتجاجاً اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا۔ صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی نے علی مدد جتک کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے، واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور متعلقہ پولیس افسران سے جواب طلبی کی جائے۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے معاملے کا نوٹس لیا ہے اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے اسمبلی فلور پر متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت انصاف کی فراہمی کے لیے ہر سطح پر اقدامات کرے گی۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ واقعہ ان کے حلقے میں پیش آیا، عاصمہ جتک کی بہن نے انہیں فون پر واقعے کے حوالے سے بتایا جس پر انہیں شدید دکھ ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت انصاف فراہم نہیں کر سکتی تو متعلقہ حکام کو ذمہ دار قرار دیا جائے اور پولیس افسران کو معطل کرکے تحقیقات کی جائیں۔ رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے حکومت پر زور دیا کہ واقعے میں ملوث بااثر افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران اراکین نے واقعے کی شفاف تحقیقات، ملزمان کی گرفتاری اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
