اسلام آباد/کوئٹہ (ویب نیوز) پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ہیڈ آفس میں ایران کے وزیر صنعت و تجارت محمد اتابک، ایران چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، مائنز اینڈ ایگریکلچر، زاہدان چیمبر آف کامرس کے حکام اور ایرانی تجارتی وفد نے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ، دیگر عہدیداران اور چیمبرز کے نمائندگان کے ساتھ اہم اجلاس کیا۔ اجلاس میں ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات، سرحدی تجارت کو درپیش مسائل اور مختلف چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اس موقع پر صدر کوئٹہ چیمبر حاجی محمد ایوب مریانی نے پاکستان ایران سرحدی تجارت سے متعلق اہم امور پر روشنی ڈالتے ہوئے تفتان اور بی پی 250 گبد بارڈر گیٹ ویز پر تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت میں مشکلات، سرحدی راستوں پر پھنسے تجارتی ٹرکوں، کسٹمز و امیگریشن سہولیات، بارڈر انفراسٹرکچر کی بہتری اور تجارت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، بہتر بارڈر مینجمنٹ اور تجارتی سہولتوں میں اضافہ نہ صرف دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ کرے گا بلکہ سرحدی علاقوں کی معاشی ترقی اور کاروباری برادری کے اعتماد کو بھی مزید مضبوط بنائے گا۔
