خضدار (ویب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی میر عبدالروف مینگل نے اسما جتک کے والد کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اسما جتک اور ان کا خاندان طویل عرصے سے خوف، ہراس اور دھمکیوں کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، کچھ عرصہ قبل خضدار کے علاقے شہزاد سٹی پولیس لائن میں رات کے وقت اسما جتک کے گھر پر حملہ کرکے انہیں اغوا کیا گیا اور اہلخانہ کو دباؤ میں لاکر زبردستی نکاح کرانے کی کوشش کی گئی، تاہم جھالاوان سمیت بلوچستان بھر کے عوام کے احتجاج اور مزاحمت کے باعث انہیں بازیاب کرایا گیا۔ ایڈووکیٹ فریدہ بلوچ نے کہا کہ ظہور جمال زئی اور ان کے خاندان کو مبینہ طور پر بااثر شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہونے کے باعث وہ قانون کی گرفت سے باہر رہے، جبکہ ان پر قتل، تشدد، دھمکیوں اور دیگر سنگین الزامات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسما جتک کے والد کا قتل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر بااثر ملزمان کے خلاف بروقت کارروائی کی جاتی تو یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔ بی این پی رہنماؤں نے بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا کہ مقدمے کی تحقیقات کے لیے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی سربراہی میں خودمختار جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے تاکہ اصل ملزمان کے ساتھ ساتھ سہولت کاروں اور پشت پناہی کرنے والے عناصر کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ تمام ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
