چمن(ویب نیوز) پاکستان یوتھ پارلیمنٹ کے سابق رکن اور جمعیت علما اسلام چمن بلوچستان کے رہنما حافظ محمد صدیق مدنی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا پائیدار حل طاقت یا تصادم میں نہیں بلکہ آئینِ پاکستان، جرگے، سیاسی مکالمے، باہمی اعتماد اور قومی اتفاقِ رائے میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کئی دہائیوں سے سیاسی، آئینی، انتظامی اور سماجی پیچیدگیوں کا شکار ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ اور پشتون اقوام کی جرگے، مشاورت اور باہمی احترام کی روایات کو آئینی دائرہ کار میں بروئے کار لاتے ہوئے ایک بااختیار صوبائی مصالحتی کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں تمام نمائندہ سیاسی، قبائلی اور سماجی شخصیات شامل ہوں۔ حافظ محمد صدیق مدنی نے مزید کہا کہ اعتماد سازی کے لیے لاپتہ افراد، سیاسی کارکنوں کے معاملات اور دیگر آئینی و قانونی تحفظات کو شفاف انداز میں حل کرنا ضروری ہے، جبکہ انتظامی تقسیم اور دیگر عوامی مطالبات پر بھی تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد فیصلے کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان پاکستان کی ترقی، استحکام اور قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، لہٰذا آئین، قانون، سیاسی برداشت اور باہمی احترام کی بنیاد پر مشترکہ قومی حکمتِ عملی ہی صوبے میں پائیدار امن، عوامی اعتماد اور معاشی ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
